24 اگست 2026 - 15:41
آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت 90 فیصد سے زائد کم ہوگئی

آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران انتہائی کم ہوگئی ہے اور اتوار کو صرف 4 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرے۔ یہ تعداد جنگ سے قبل روزانہ اوسط 130 جہازوں کے مقابلے میں 90 فیصد سے بھی زیادہ کمی ظاہر کرتی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کے برعکس کہ آبنائے ہرمز سے روزانہ 70 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار صورتحال کی مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

رائٹرز نے پیر کے روز بحری جہازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ دو روز کے دوران 20 سے بھی کم تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اتوار کو یہ تعداد صرف 4 رہ گئی۔ جنگ سے قبل روزانہ اوسطاً 130 تجارتی جہاز آبنائے سے گزرتے تھے۔

الجزیرہ نے بھی رپورٹ کیا کہ ایران کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے بعد کہ امریکی پابندیوں میں تعاون کرنے والے ہمسایہ ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نقشے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، ہفتے کے آغاز سے اتوار 23 اگست تک آبنائے سے گزرنے والے جہازوں میں صرف 5 تیل بردار جہاز اور 3 گیس بردار جہاز شامل تھے۔

رپورٹ میں آبنائے سے گزرنے والے دو راستوں کے درمیان فرق کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے مرکزی راستے، جو ایران اور عمان کی حدود سے گزرتا ہے، پر چند تیل بردار جہازوں کی آمدورفت ہوئی، تاہم معمول کے مقابلے میں یہ تعداد انتہائی کم ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے فوجی تحفظ فراہم کرنے کے دعوے کے ساتھ جس عمانی بحری راستے سے تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی ترغیب دی جارہی ہے، وہاں گزشتہ دو روز کے دوران ایک بھی تیل بردار جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔ اس راستے پر صرف چند مال بردار جہاز گزرے، جن میں سے بیشتر نے اپنی شناخت اور منزل ظاہر نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق، دونوں راستوں کے درمیان واضح فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کی حمایت یافتہ بحری راہداری تیل بردار جہازوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ بعض جہاز محتاط انداز میں مرکزی راستے سے گزرے، جبکہ کچھ نے اپنی شناخت اور سامان کی تفصیلات چھپانے کے لیے مقام ظاہر کرنے والا نظام بند کردیا۔

ادھر کپلر نامی ادارے نے بتایا ہے کہ جولائی کے وسط سے اب تک ایران کے تیل سے لدے کسی بڑے تیل بردار جہاز نے آبنائے ہرمز عبور نہیں کیا۔ تاہم متعدد جہازوں کی جانب سے مقام ظاہر کرنے والا نظام بند کیے جانے کے باعث ایران کی حقیقی تیل برآمدات کا درست اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے۔

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی معاشی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز یا خلیج فارس سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً 7 کروڑ بیرل تیل برآمد کرچکا ہے۔

دریں اثنا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا اور پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت میں کمی کو حقیقی خطرہ سمجھا جا رہا ہے اور اس کے برقرار رہنے کے امکان کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha